ہستی باری تعالیٰ — Page 219
۲۱۹ کے اثرات کو مٹا دیتے ہیں۔بیماری کے کیڑوں کے مقابلہ میں ان کو ہلاک کرنے والے کیڑے یا زہر پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے انسان پر کیا رحم کیا مگر طب سے پتہ لگتا ہے کہ ننانوے فیصدی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی انسان کے اندر ہی اندر اصلاح ہو جاتی ہے تو ایک تو صفات الہیہ کا ظہور ہر آن میں ہو رہا ہے اور وہ کسی وقت معطل نہیں ہوتیں مثلاً خدا تعالیٰ سمیع ہے۔اگر کوئی منہ سے دُعا نہیں کرتا تو اس کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ سے مدد کی التجا کر رہا ہوتا ہے پھر وہ مجیب ہے وہ ہر ایک عضو کی پکار کوسنتا ہے۔دوسرا حصہ صفات کا یعنی جو بلانے سے ظاہر ہوتا ہے دو قسم کا ہے ایک وہ جس کی مدد قانون قدرت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے دوسرا وہ جس کی مدد قانون قدرت نہیں بلکہ قانونِ شریعت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔قانونِ قدرت کے ذریعہ سے جن صفات کی مدد حاصل کی جاتی ہے ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی کھانا پکاتا ہے تو ضرور اس کا کھانا پک جائیگا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت تو ظاہر ہو گئی لیکن اس کا ظہور انسانی فعل کے نتیجہ میں ہوگا یا مثلاً ستاری کی صفت کو لے لو اس صفت کے ظہور کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک قانون بنا رکھا ہے اگر اس کے ماتحت کوئی شخص چوری بھی کرے گا تو بچ جائے گا۔مثلاً اندھیرے میں چوری کرے اس امر کی احتیاط کرے کہ کوئی دیکھتا نہ ہولیکن اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی چوری ظاہر ہو جائے گی۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے اگر انسان بدی کے ساتھ نیکی کرتا رہے یا بد پر ہیزی کے ساتھ علاج کرتا رہے تو اس صفت کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور ایک حد تک بد نتائج سے انسان بچتارہتا ہے۔