ہستی باری تعالیٰ — Page 201
۲۰۱ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک فقیر کسی سبھی کو کہہ سکتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تُو سخاوت نہ کر سکتا اس لئے تو میرا محتاج ہے تو ایک بندہ بھی خدا کو کہہ سکتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے۔مگر کبھی کسی نے نہ سنا ہو گا کہ کسی فقیر نے کہا ہو کہ فلاں سخی محتاج تھا جس سے میں نے آٹھ آنے یا چار آنے لئے اور تب جا کر اسکی احتیاج پوری ہوئی۔تعجب ہے کہ ایک شخص آٹھ آنے یا چار آنے لیکر تو کہتا ہے کہ یہ امر میری احتیاج پر دلالت کرتا ہے نہ دینے والے کی احتیاج پر مگر خدا کے متعلق انسان زمین و آسمان اور ان کے اندر جو چیزیں ہیں ان کو لیکر کہتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے میں نہ ہوتا تو یہ چیزیں کون استعمال کرتا ؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ احتیاج اس چیز کی ہوتی ہے جو مستقل حیثیت رکھتی ہے اور جو ہماری اپنی صفت کا ظہور ہو وہ احتیاج نہیں کہلاتا۔مثلاً یہ احتیاج ہے کہ ایک ہمارا کام بغیر کسی اور شخص کی مدد کے نہیں ہو سکتا لیکن اپنی کسی صفت کا اظہار احتیاج نہیں ہے بلکہ اسے قدرت کہتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ کسی غیر چیز کی مدد نہیں چاہتا وہ محتاج نہیں کہلا سکتا وہ تو اپنی قدرت سے ایک عالم کو پیدا کرتا ہے پس وہ محتاج نہیں بلکہ مقتدرہوا اور اس نے ایک چیز پیدا کی اور اسے چن لیا اور اسے بزرگی دی۔خدا تعالی کی قدرت پر اعتراض اور اس کا جواب خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر وہ قادر مطلق ہے تو اتنی دیر میں کیوں پیدا کرتا ہے؟ خصوصاً یہ اعتراض زمین و آسمان کی پیدائش پر کیا جاتا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔