ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 200

۲۰۰ طرح ایک جنس۔ہم نے اپنے فیصلہ میں کسی قسم کی بھی کمی نہیں کی پھر یہ سب ایک دن اپنے رب کے حضور میں پیش کئے جائیں گے۔کسی وضاحت سے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے سوا دوسرے حیوان بھی اپنے فرائض کی ادائیگی پر بدلے پائیں گے۔ہاں وہ بدلہ ان کی اپنی جنس کی طاقتوں کے مطابق ہوگا نہ انسان کی طرح کا۔پس یہ غلط ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اور ان چیزوں کو نہیں ملے گا سب کو ملے گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر ایک بکری نے دوسری بکری کا سینگ تو ڑا تو قیامت کے دن دوسری سے خدا تعالیٰ کہے گا کہ تو اس کا سینگ توڑ۔تو کوئی روح ایسی نہیں ہوسکتی جو جزاء نہ پائے ہاں جیسی جیسی روح ہوگی ویسی ویسی اس کو جزاء ملے گی۔ہمیں سب کی تفصیلوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔غرض کوئی ایسی شئے نہیں جو بدلہ نہ پائے گی لیکن انسان چونکہ کامل ہے اس لئے یہ ابدی نجات پائے گا اور دوسری چیزیں کامل نہیں اس لئے ان کو ابدی زندگی نہیں ملے گی۔دیکھو جو انسان مارا جاتا ہے اس کا اس کی بیوی بچوں پر کیسا اثر پڑتا ہے مگر بکری ماری جائے تو اس کے بچے کو پروا بھی نہیں ہوتی اور اگر غم ہوتا بھی ہے تو صرف چند دن کا پھر انسان پر شریعت کی پابندیاں ہوتی ہیں مگر وہ دوسرے جانوروں پر نہیں ہوتیں۔مخلوق کا پیدا کرنا خدا کے غنی کے خلاف نہیں صفات رحمت کے علاوہ خدا تعالیٰ کی صفت غناء پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ که اگر خدا غنی ہے تو اس نے مخلوق کو پیدا کیوں کیا ؟ کیا وہ محتاج ہے کہ اسے مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۳۵