ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 199

۱۹۹ ان کو اس کی کیا جزاء ملے گی؟ انسان بکری کا گوشت کھا کر مزہ حاصل کرتا ہے لیکن بکری کو اس تکلیف کے بدلے کیا ملا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔اس عالم کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کے حکم میں لگا ہوا ہے اور اس کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہے اور ہر ذرہ اجر کا مستحق ہے۔اس لئے نہیں کہ وہ اس کا حق دار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا نے اس کا حق مقرر کر دیا ہے وہ حق دار تو نہیں مگر اسے حق مل رہا ہے۔دیکھو وہی ذرہ جو ایک بکری میں ہو اس بکری کے ذبح ہونے پر اگر وہ ذرہ ایک بہت بڑے مصلح یا نفع رساں وجود کے جسم کا حصہ بن جائے تو کیا یہ اس کا انعام نہیں اور کیا وہ اس ذریعہ سے ایک بلند مقام پر نہیں پہنچ گیا ؟ ہر چیز کو بدلا ملے گا قانون قدرت ہمیں بتاتا ہے کہ ہر چیز کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ مل رہا ہے سروائیول آف دی فٹسٹ یا بقائے انسب کا قانون صاف بتا رہا ہے کہ ہر چیز اپنا بدلہ پارہی ہے خواہ گھانس کی پتی ہی کیوں نہ ہو۔ہاں بدلے اپنی اپنی حالت کے مطابق ہوتے ہیں۔انسانی جس چونکہ سب دوسری چیزوں سے ترقی یافتہ ہے انسان کا بدلہ بھی دائگی اور ابدی ہے دوسری چیزوں کی حسیں چونکہ بالکل محدود ہیں اس لئے ان کے بدلے بھی محدود ہیں گو بدلے ہیں ضرور۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَيْرٍ يطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ - (الانعام :۳۹) زمین پر چلنے یا رینگنے والے جانور یا ہوا میں اُڑنے والے پرندے سب کے سب تمہاری طرح کی امتیں ہیں جو تمہاری