ہستی باری تعالیٰ — Page 179
129 سی چیزیں ہیں جواب مصنوعی بننے لگ گئی ہیں۔جیسے ریشم وغیرہ غرض ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا کامل علم ہو وہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اس بات کے ثابت ہو جانے کے بعد اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ اگر خدا تعالیٰ کو علم کامل ہے تو یقینا وہ مادہ کے بنانے پر بھی قادر ہے اور اگر وہ مادے کے بنانے پر قادر نہیں تو اس کا علم بھی کامل نہیں پس صفت علم جو ہمارے اور آریوں کی مسلمہ ہے وہ اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کو مادہ پیدا کرنے پر قادر ہونا چاہئے۔صفت مالکیت سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اب بھی اگر کسی کی تسلی نہ ہو تو پھر کسی اور صفت کو مستقل قرار دیکر پیمائش شروع کی جا سکتی ہے۔میں اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کو لیتا ہوں۔اس صفت کو ہم بھی مانتے ہیں اور فریق مخالف بھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ملکیت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ ملکیت یا تو اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ کوئی شخص ورثہ سے کوئی چیز حاصل کرتا ہے یا کوئی اسے دیتا ہے یا وہ خریدتا ہے یا خود بناتا ہے یہی چار ذریعے ملکیت کے ہیں یعنی ورثہ، تحفہ، خرید اور خلق یا صنعت۔خدا تعالیٰ جو مالک کہلاتا ہے تو کس لحاظ سے آیا اسے مادہ ورثہ میں ملا ہے یا اسے کسی نے تحفہ دیا ہے یا اس نے خریدا ہے یا بنایا ہے۔آریہ لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ پہلے تین ذریعوں سے خدا کو مادہ پر ملکیت حاصل ہوتی ہے اس لئے اگر وہ مالک ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسے ملکیت پیدا کرنے کے سبب سے حاصل ہوئی ہے اور اگر یہ ثابت