ہستی باری تعالیٰ — Page 169
دوسری آیت یہ ہے فَإِنَّهُمْ عَدُولِى إِلَّا رَبَّ الْعَلَمِينَ (الشعراء: ۷۸) خدا کے سوا جو معبود سمجھے جاتے ہیں وہ سب میرے دشمن ہیں کیونکہ میں ان کا مخالف ہوں۔اب اگر معبودان باطلہ بھی واقعہ میں اللہ تھے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ مقید شکل میں تو وہ دشمن ہیں اور مطلق میں دوست مگر یہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔تیسری آیت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا بھی اور چیزیں ہیں یہ ہے قُل أَفَغَيْرَ اللهِ تَأْمُرُونى أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ (الزمر: ۶۵) اے جاہلو! کیا تم خدا کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کے لئے مجھے کہتے ہو؟ اس آیت میں ان وجودوں کو جنہیں بت پرست پوجتے تھے غیر اللہ کہا گیا ہے۔چوتھی آیت یہ ہے لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوّاً بِغَيْرِ عِلْمٍ - (الانعام : ۱۰۹) کہ ان معبودوں کو جن کی یہ خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں گالیاں نہ دو ورنہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو دشمنی کے جذبات کے ماتحت جہالت و نادانی سے گالیاں دینے لگ جائیں گے۔اب ہم پوچھتے ہیں اگر وہ بھی خدا ہی ہیں تو مِن دُونِ اللہ کیوں کہا؟ اور اگر کہو کہ چونکہ مشرک ان کو مِن دُونِ اللہ کہتے تھے اس لئے ان کو ان کے عقیدہ کے ماتحت مِنْ دُونِ اللہ کہا گیا ہے تو پھر یہ سوال ہے کہ بہت اچھا مِن دُونِ اللہ تو ان لوگوں کے عقیدہ کی وجہ سے کہا مگر پھر یہ کیوں فرمایا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو ورنہ وہ خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں گے یہ کیوں نہ کہا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو کیونکہ وہ بھی در حقیقت خداہی ہیں گو یہ نادان مشرک ان کو من دُونِ اللہ سمجھ کر ان کی پرستش کر رہے ہیں کیونکہ خدا کے کسی حصہ کو اس لئے گالی دینا منع نہیں کہ کوئی مطلق خدا کو گالی دینے لگے گا بلکہ اس لئے منع ہے کہ وہ خدا ہے۔