ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 168

۱۶۸ سے آزاد چھوڑ دیا ہے پس جس امر میں خدا تعالیٰ نے خود انسان کو مقدرت دیگر امتحان کے طور پر آزاد کیا ہے، انسان کی اس نافرمانی کی وجہ سے ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ کوئی چیز خدا کی فرمانبرداری سے باہر ہے کیا ابو جہل اور فرعون خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کی فرمانبرداری کرتے تھے کہ نہیں؟ اگر کرتے تھے تو سب خدا کے فرمانبردار ہیں۔یہ لوگ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے تو معلوم ہوا کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے۔کیونکہ سنتے اور دیکھتے ہم بھی ہیں۔اگر ہم خدا نہیں تو یہ آیت غلط ہو جاتی ہے۔حالانکہ اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کیونکہ جو چیز کسی کی دی ہوئی ہو وہ دراصل اس کی ہوتی ہے پس جب نظر خدا کی دی ہوئی ہے جس سے ہم دیکھتے ہیں اور سننے کی طاقت بھی اس کی دی ہوئی ہے جس سے ہم سنتے ہیں تو خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے۔تائیدی آیات قرآنی پھر اسکے مقابلہ میں ہم دوسری آیات دیکھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں غلط ہیں خدا تعالیٰ اپنی ہستی کے متعلق فرماتا ہے لیس گیفله شنی کہ اس جیسی کوئی اور ہستی نہیں کوئی چیز خدا کے مشابہ نہیں۔ہم کہتے ہیں اگر کوئی چیز ہی دنیا میں نہیں بلکہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے تو لَيْسَ كَمِثْلِه شنی (الشوری:۱۲) کا کیا مطلب ہوا؟ وحدت الوجود والے کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں سب کچھ ایک ہی ہے ہم کہتے ہیں جب ایک ہی ہے تو یہ کہنے کا کیا مطلب کہ خدا جیسی کوئی چیز نہیں۔