ہستی باری تعالیٰ — Page 167
۱۶۷ غرض حَبْلِ الْوَرِيدِ اس جگہ انسان کی زندگی کے سہارے کے معنی میں آیا ہے۔مگر اس کے غلط معنے لے کر کچھ کا کچھ بنا دیا گیا ہے۔اور یہ جو اُن کی دلیل ہے کہ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ (الحديد: ۴) وہی شروع ہے اور وہی آخر اور وہی اندر ہے اور وہی باہر ہے۔اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ سب جگہ خدا ہی خدا ہے یہ دلیل بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اول اور آخر اور ظاہر اور باطن چاروں الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کچھ اور بھی ہے اگر غیر کوئی ہے ہی نہیں تو پھر اوّل کہنے اور آخر کہنے کی کیا ضرورت تھی اور ظاہر کہنے اور باطن کہنے کی کیا ضرورت تھی پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہی وہ ہے اور کچھ نہیں۔اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ محیط ہے۔یہ نہیں کہ سب کچھ اللہ ہی اللہ ہے۔اندر اور باہر کے الفاظ بھی اول اور آخر کے الفاظ بھی احاطہ پر دلالت کرتے ہیں۔پس یہ آیت یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے ساتھ تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔آیت لله يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (الرعد: ۱۶) کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز خدا کی فرمانبرداری کر رہی ہے۔سجدہ کے اصل معنی فرمانبرداری کے ہیں اور زمین پر سر رکھنے کے معنے مجاز بنتے ہیں اور فرمانبرداری کے لحاظ سے کوئی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر ہے؟ دنیا کا ایک ایک ذرہ خدا کی فرمانبرداری کر رہا ہے۔مثلاً زبان ہے اسے اگر میٹھا دو گے تو میٹھا چکھے گی اگر کروا دو گے تو کروا چکھے گی یہ الگ بات ہے کہ وہ خدا کا انکار کر دے۔مگر جو کام خدا نے اس کا مقر رکیا ہے اسے نہیں چھوڑ سکتی اور اس میں نافرمانی نہیں کر سکتی۔باقی رہا یہ کہ انسان خدا کی نافرمانی بھی کرتا ہے سوسوال یہ ہے کہ کس جگہ نافرمانی کرتا ہے وہیں جہاں خدا نے اسے مقتدرت دیگر امتحان کی غرض