ہستی باری تعالیٰ — Page 163
۱۶۳ یہی سمجھے ہیں کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ خدا کا غیر نہیں ہیں بلکہ خدا کا جزو ہیں تبھی وہ کہتے ہیں کہ اس نے تو اتنے معبودوں کو ایک ہی معبود بنادیا اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ کفار جو عربی کے ماہر تھے کلمہ شریفہ کے یہی معنے سمجھتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کا رد بھی نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو معنے انہوں نے کلمہ شریفہ کی طرف منسوب کئے ہیں ان کو صحیح تسلیم کر لیا گیا ہے۔تیسری دلیل یہ لوگ آیت نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔(ق: ۱۷) سے پیش کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم رگ جان سے بھی انسان کے زیادہ قریب ہیں۔اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر وجود درگ جان سے زیادہ قریب ہے۔پس اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم خدا کا جزو ہیں کیونکہ وجود مطلق وجود مقید سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔چوتھی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ (الحدید: ۴) پس جب خدا ہی اول ہے وہی آخر وہی اندر وہی باہر تو اور کیا چیز باقی رہی؟ ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں آیا ہے لِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (الرعد: ۱۶) زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے خدا کو ہی سجدہ کر رہا ہے۔اب اگر خدا کے سواد نیا میں کچھ اور بھی ہے تو پھر یہ غلط بات ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اور وجودوں کو بھی سجدہ کرتے ہیں۔اگر بت خدا نہیں تو معلوم ہوا کہ خدا کے سوا اور کو بھی سجدہ کیا جاتا ہے اور یہ آیت درست نہیں رہتی اس لئے معلوم ہوا کہ وہ بھی خدا ہی ہیں۔اگر کہا جائے کہ اگر یہ درست ہے تو پھر شرک کیا چیز ہے اور کیوں لوگوں کو دوسری