ہستی باری تعالیٰ — Page 137
کرے کہ صرف مادی اسباب ہی ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ روٹی کھانے سے ضرور پیٹ بھر جائے گا اور خدا تعالیٰ کی قضاء کا اب اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے تو یہ شرک ہوگا یا جو کپڑا پہنے اس کے متعلق سمجھے کہ یہ ضرور سردی سے بچائے گا تو یہ بھی شرک ہوگا۔یا کوئی سامان مہیا کرے اور سمجھے کہ اس کے ذریعہ ضرور میرا کام ہو جائے گا یہ بھی شرک ہے ہاں اگر یہ خیال کرے کہ ان سامانوں میں خدا نے یہ طاقت رکھی ہے اور اس کے فعل اور ارادے کے ماتحت ان کے نتائج پیدا ہوں گے تو یہ شرک نہیں ہوگا۔پس شرک کی ایک قسم یہ ہے کہ آخری تصرف جو خدا کو دینا چاہئے وہ اسباب کو دیدے۔اس شرک کے اندر بھی یہی حقیقت مخفی ہے کہ انتہائی مقام تصرف کا خدا سے لیکر اور چیزوں کو دیدیا ہے۔شرک کی پانچویں قسم پانچویں قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا کی وہ مخصوص صفات جو اس نے بندوں کو نہیں دیں جیسے مردہ کو زندہ کرنا یا کوئی چیز پیدا کرنا۔یا یہ کہ خدا نے کہا ہے میں ازلی ہوں اور میرے سوا کوئی از لی نہیں۔یا یہ بتایا ہے کہ میں فنا سے محفوظ ہوں جبکہ دوسرے سب فنا کا شکار ہیں ایسے سب امور میں خدا تعالیٰ کی خصوصیت کو مٹا دینا اور ان صفات میں کسی اور کو شریک کر دینا خواہ اس عقیدہ کی بناء پر کہ خدا نے اپنی مرضی اور اپنے اذن کے ساتھ یہ صفات یا ان کا کچھ حصہ کسی خاص شخص کو دیدیا ہے، شرک ہے۔اس شرک میں افسوس ہے کہ اب مسلمان بھی مبتلاء ہیں حالانکہ یہ بہت کھلا اور ظاہر شرک ہے۔مسلمانوں کا عام طور پر یہ خیال ہے کہ حضرت عیسی ابھی تک زندہ ہیں حالانکہ ہر انسان کے لئے فنا ہے اور فنا سے