ہستی باری تعالیٰ — Page 118
۱۱۸ اللہ تعالیٰ کے متعلق اہلِ یورپ کا خیال سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کے متعلق ان اہل یورپ کے خیالات کو بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل ہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ خدا ہے تو سہی لیکن اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ دیا ہے اب اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھتے کہ خدا اب بھی کچھ پیدا کرتا ہو اس لئے معلوم ہو ا کہ اب کچھ کرنے سے وہ معطل ہو گیا ہے اور اس لئے مخلوق کا عملا اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دوسرا خیال یہ ہے کہ دُنیا کے انتظام کے لحاظ سے تو خدا بیشک معطل ہی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو اخلاقی ہدایت کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں نیک خیال ڈالتا رہتا ہے۔ان لوگوں کی یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ اتنا وجود تو خدا تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں۔آئندہ کے متعلق ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور دنیا میں بھیجا ہے اس لئے اگر اس کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے گی تو سزا دے گا۔بعض کہتے ہیں خدا کا سزا سے کیا تعلق؟ کیا ہماری یہ مہربانی کم ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیدا کیا اگر ہم اس کے دن بین احکام نہیں مانتے تو سزا کیسی ؟ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے جو احکام مانتے ہیں ان کا انعام دے گا اور جو نہیں مانتے ان کی سزا نہیں دے گا۔یورپ کے ایک فلاسفرسل نے صرف انعام دینے والے اصل پر بڑا از ور دیا ہے۔بعض لوگوں نے اس کے سزا کی نفی پر بہت ہی زور دینے کی یہ وجہ لکھی ہے کہ اس کے اعصاب بہت تیز تھے اور وہ درد بہت زیادہ محسوس کرتا تھا اس لئے اس کی طبیعت اس امر کو مان ہی