ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 106

1+4 لیکن نہ ماننے والا برائی کو برائی سمجھ کر چھوڑتا ہے اور نیکی کو نیکی سمجھ کر کرنا اور برائی کو برائی سمجھ کر چھوڑنا بہ نسبت لالچ سے نیکی کرنے اور ڈر سے برائی کو چھوڑنے کے بہت اعلیٰ ہے۔ہم کہتے ہیں نیکی کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ وہ اس عمل یا خیال کا نام ہے جو ایک کامل اور بے عیب ذات سے مشابہت پیدا کرتا ہو اور بدی اس فعل یا خیال کا نام ہے جو اس کامل اور بے عیب ذات کی پسندیدگی یا فعل کے خلاف ہو۔اس کامل نمونہ کی مشابہت یا مخالفت کو مدنظر ر کھے بغیر نیکی کی کوئی تعریف ہو ہی نہیں سکتی۔اگر ایسا کامل نمونہ ہی موجود نہیں ہے تو پھر نیکی بدی کی مکمل تعریف بھی ناممکن ہے۔نیکی کیا ہے؟ جو لوگ خدا تعالیٰ کے ماننے والے نہیں یا جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو معرض بحث میں لانے کے بغیر اخلاق کی بحث کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وہ نیکی کی تعریف میں اختلاف رکھتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ نیکی وہ عمل ہے کہ جس سے سب سے زیادہ خوشی حاصل ہو اور جو انہیں حالات میں اتنی خوشی نہ پیدا کرے وہ بدی۔دوسرے کہتے ہیں کہ خوشی کے کیا معنی ہیں؟ ایک شخص ڈاکہ مارتا ہے وہ اسی پر خوش ہوتا ہے مگر ڈاکہ ڈالنا نیکی نہیں۔اس لئے نیکی کی یہ تعریف درست نہیں۔اس کی اصل تعریف یہ ہے کہ جس بات سے سب سے زیادہ نفع پہنچے وہ نیکی ہے اور انہیں حالات میں جن امور میں کم نفع پہنچے یا نقصان پہنچے وہ بدی ہے۔مگر اس پر یہ سوال پڑتا ہے کہ کس کو نفع پہنچے ؟ اگر دوسروں کو تو جب کوئی مال