ہستی باری تعالیٰ — Page 104
کیا کو نین کو نین منہ سے کہنے سے بخار اتر جاتا ہے؟ اگر نہیں تو صرف منہ سے یہ کہنے سے کہ خدا کو مانتا ہوں کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں ہندوستان کے دہریے دیو سماجی ہیں۔وہ یوں بھی کہتے ہیں اور ٹریکٹوں میں بھی لکھتے ہیں کہ ان کی سماج میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں ان میں جرم کم ہوتے ہیں۔اگر ان کے اس دعوی کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی ہم کہتے ہیں کہ اس تعریف کے دیوسا جی مستحق نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ دیو سماجی بنانے سے پہلے ایک فارم پر کراتے ہیں جس پر داخل ہونے والا اقرار کرتا ہے کہ فلاں فلاں عیب سے پر ہیز کرتا ہوں جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کی سماج میں اسی شخص کو داخل کیا جاتا ہے کہ جس میں بعض گناہ جو زیادہ نمایاں ہیں پہلے ہی سے نہ ہوں۔پس ان کے گروہ کی اس میں کیا خوبی ہوئی کیا دوسری جماعتوں میں خوبیوں والے آدمی نہیں پائے جاتے۔اگر وہ جماعتیں بھی اپنے معیوب آدمیوں کو باہر نکال دیں تو کیا وہ دیو سماج سے ہزاروں گنے بڑھ کر پاک وصاف لوگ نہیں دکھا سکتیں۔دیو سماجیوں کا دعوی ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی فوجی افسر دعویٰ کرے کہ دیکھو ہمارا فوجی انتظام کیسا اعلیٰ ہے کہ اس میں جو آتا ہے اس کی چھاتی چوڑی ہو جاتی ہے قد لمبا ہو جاتا ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ فوج میں لیتے ہی ایسے شخص کو ہیں جو اچھے قد کا ہو اور اس کا سینہ چوڑا ہو اور یہ حالت فوج کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان حالات کے آدمیوں کو لینے کی وجہ سے فوج کو یہ خوبی حاصل ہوتی ہے۔یا مثلاً کوئی ہسپتال میں جائے اور جا کر مریضوں کو دیکھے اور کہے یہ اچھا ہسپتال ہے جس میں کانے لنگڑے لولے بیمار پڑے ہیں۔حالانکہ ہسپتال بنایا ہی ایسے لوگوں کے لئے جاتا ہے جو بیمار ہوں۔پس ہم کہتے ہیں یہ دیو سماج کی تعلیم کا اثر اور خوبی نہیں اگر اس