ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 92

۹۴ موقعوں پر شفاء ملتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفاء کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے۔خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک دن آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں میں جھنڈا دونگا۔حضرت عمررؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو میں نے گردن اونچی کر کر کے دیکھنا شروع کیا کہ شاید مجھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا دیں مگر آپ نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہ فرمایا۔اتنے میں حضرت علی آئے اور ان کی آنکھیں سخت دُکھ رہی تھیں آپ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور آنکھیں فوڑا اچھی ہو گئیں اور آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا دیکر خیبر کی فتح کا کام ان کے سپر د کیا۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے سارے واقعات چونکہ محفوظ نہیں۔اس لئے اس قسم کی زیادہ مثالیں اب نہیں مل سکتیں ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہوں گی۔مگر حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جبکہ دہریت کا بہت زور ہے اور اس کے توڑنے کے لئے آسمانی نشانوں کی حد درجہ کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشانات اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کا قیاس کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر میں ایک صاحب عبد الکریم نامی کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔وہ قادیان میں سکول میں پڑھا کرتے تھے انہیں اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ کھایا اس پر انہیں علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا اور علاج ان کا بظاہر کامیاب رہا لیکن واپس آنے کے کچھ دن بعد انہیں بیماری کا دورہ ہو گیا۔جس پر کسولی تار دی گئی کہ کوئی علاج بتایا جائے ؟ مگر جواب آیا: "NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM"