ہستی باری تعالیٰ — Page iv
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین در حقیقت مذہب کی بنیاد اور روحانیت کا مرکزی نقطہ ہے۔اس کے بغیر مذہب کا تصور ہی کا لعدم ہو جاتا ہے۔لیکن اس وقت دنیائے مذاہب پر نظر ڈالنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس کے پیروکاروں نے مادیت میں ملوث ہو کر اپنے انبیاء کی تعلیمات کو بھلا دیا جس کے نتیجہ میں وہ اپنے مالک حقیقی کو ابدی واز کی صفات سے معطل گمان کرتے ہیں اور مختلف تو ہمات میں گرفتار ہیں اور گمراہی ،شرک و بدیوں کا شکار ہورہے ہیں اور آئندہ نسلوں کو بھی دہریت کی اندھیری کھائیوں میں دھکیل رہے ہیں۔اسلام نے خدا تعالیٰ کی ہستی کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک اور رب العالمین ہے۔اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ نا ایمن کا پیش کردہ خدا ایک زندہ اوری و قیوم خدا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خليفة انتاج الثانی رضی اللہ تعالی عند الصلح الموعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۱ء کے موقع پر ہستی باری تعالیٰ“ کے موضوع پر حقائق ومعارف سے پر، بصیرت افروز انداز میں ایک عالمانہ اور جامع تقریر فرمائی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی اس تقریر میں ہستی باری تعالیٰ کے آٹھ دلائل اور ان پر پیدا ہونے والے اعتراضات کے جواب ارشاد فرمائے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات سے خدا کی ہستی کا ثبوت فراہم فرمایا اور صفات الہیہ کی اقسام بھی بیان فرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے متعلق اہلِ یورپ کے خیالات، زرتشیوں کے خیالات ، ہندؤوں کے خیالات اور آریوں کے تصورات کے