ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 195

۱۹۵ محنت میں شریک ہو کر تکلیف اُٹھاتے ہیں۔پس یہی نہیں کہ بیماری سے ہی انسان کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے اگر تکلیفوں کو دور کرنے سے ہی خدا تعالیٰ کی صفات رحمت کا پتہ چل سکتا ہے تو یہ بھی سوال ہونا چاہئے کہ سب پیشے موقوف کئے جائیں سب محنتیں اُڑا دی جائیں۔اب علم حاصل کرنے کے لئے برسوں محنت کرنی اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، ہونا یہ چاہئے کہ ادھر بچہ پیدا ہو ادھر سارے علوم کے خزانے اس پر کھل جائیں۔اب زمیندار کو فصل تیار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے مگر چاہئے یہ کہ آپ ہی غلہ آگے، آپ ہی گھر میں آجائے ، آپ ہی آپ روٹی پکے۔اسی طرح کپڑوں کی تیاری میں تکلیف ہوتی ہے چاہئے یہ کہ آپ ہی کپڑا تیار ہو، آپ ہی آپ لباس سیئے جائیں۔غرض کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ ہو جائے۔تمام کاروبار بند ہو جائیں اور سب پیشے موقوف ہوں نہ لو ہار رہے نہ ترکھان، نہ دھوبی رہے نہ درزی، نہ ڈاک والے رہیں نہ ریل والے کوئی بھی نہ رہے۔گویا جس طرح پرانے زمانہ میں ایدی خانے ہوتے تھے (جن کا نام برعکس تھا کیونکہ ان میں ایسے لوگ رکھے جاتے جو بے ہاتھ ہوتے ) ساری دنیا ہی ایدی خانہ بن جائے۔سب لوگ چار پائیوں پر پڑے ہوئے ہوں، نہ چلنے کی تکلیف نہ اٹھنے کی ضرورت، نہ کوئی ہاتھ ہلائے نہ پاؤں، سب کام آپ ہی آپ ہوں۔سب ترقیاں بند ہو جائیں، سب مقابلے روک دیئے جائیں یہ دنیا ہے جو تکلیفوں کے سلسلے کے بند ہونے کے خواہشمند پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اگر موت نہ ہوتی اب میں ایک اور پہلوکو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ مرنے سے جو تکلیف ہوتی ہے اسے اُڑا