ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 187

IAZ مرنے سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو جائے تو پھر کیا ہوا اگر وہ مر گیا، اس کے مرنے پر کئی دوسرے بچ جاتے ہیں۔ساتواں جواب یہ ہے کہ ان چیزوں کو خدا نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ رحیم ہی نہیں بلکہ شدید العقاب بھی ہے۔جو شریر ہوتے ہیں وہ ان کو ان چیزوں کے ذریعہ سزا دیتا ہے۔اگر بھیٹر یا نہ پیدا ہوتا تو وہ شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرارت کرنے پر بھیڑیے نے چیرا کس طرح یہ سزا پاتا؟ اگر طاعون نہ ہوتی تو سیح موعود کے مخالفوں پر کس طرح عذاب آتا ؟ پس جس طرح خدا تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت چاہتی ہے کہ بندوں پر جلوہ کرے اور انہیں آرام و آسائش پہنچائے۔اسی طرح اس کی شدید العقاب کی صفت کا جلوہ ہونا بھی ضروری تھا اور وہ اسی قسم کی چیزوں کے ذریعہ ظاہر ہوسکتی ہے جنہیں نقصان رساں سمجھا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی اس صفت پر اعتراض کرنے والوں کی حالت ایسی ہی ہے جیسے شتر مُرغ کے متعلق ایک مثال بنی ہوئی ہے کہ اسے کسی نے کہا تھا کہ تو مرغ ہو کر اُڑتا کیوں نہیں؟ کہنے لگا احمق کبھی اونٹ بھی اُڑا کرتے ہیں؟ اس نے کہا اگر تجھے اونٹ ہونے کا دعویٰ ہے تو آ پھر ہم تجھ پر بوجھ لادیں۔کہنے لگا کبھی پرندے پر بھی کسی نے بوجھ لادا ہے؟ وہ اڑنے کے وقت اونٹ بن گیا اور بوجھ لادنے کے وقت پرندہ۔یہی مثال ان لوگوں کی ہے۔اگر خدا تعالیٰ میں رحم ہی رحم ہوتا تو کہتے اس میں سزا دینے کی طاقت کیوں نہیں ہے اور جب کہ اس میں سزا دینے کی طاقت بھی ہے تو کہتے ہیں یہ کیوں ہے؟