ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 178

IZA کے اندر پائی جاتی ہیں وہ اس امر کی تائید کریں کہ خدا تعالی مادہ کا خالق ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق ہے لیکن اگر وہ اس خیال کو رد کریں تو ماننا پڑے گا کہ وہ مادہ کا خالق نہیں ہے۔خدا کی صفت علیم مادہ کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہے میں ان صفات میں سے جو میرے نزدیک اس سوال پر روشنی ڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کی صفت علیم کو سب سے پہلے پیش کرتا ہوں۔آریہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کو اس طرح علیم مانتے ہیں جس طرح کہ ہم مانتے ہیں۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ہر اک بات کا علم ہے اور اس کا علم کامل ہے۔پس خدا تعالیٰ کے خالق مادہ ہونے کے سوال کی صحیح حد برآری کرنے کے لئے علم کامل ایسی صفت ہے جس پر کامل طور پر یقین کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ دونوں فریق تسلیم کرتے ہیں کہ یہ غیر متبدل مقام ہے اس کے حقیقی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔اب اگر غور سے کام لیا جائے تو علم کامل کے معنے یہ ہیں کہ جس چیز کی نسبت علم کامل ہو اس کے بنانے کی بھی قابلیت ہو۔چنانچہ سینکڑوں چیزیں جو پہلے طبعی قوانین کے ماتحت دنیا میں پیدا ہوتی تھیں ان کے متعلق یورپ والوں نے علم کامل حاصل کر کے ان کو بنانا شروع کر دیا ہے۔نیل جسے پہلے بویا جاتا تھا جرمن والے اب اسے بنا رہے ہیں۔عطر جو پہلے پھولوں سے بنائے جاتے تھے جرمن میں اب ان میں سے اکثر کیمیائی ترکیبوں سے بنائے جاتے ہیں کیونکہ خوشبو جن ترکیبوں سے پیدا ہوتی ہے وہ جرمن والوں کو معلوم ہو گئی ہے وہ مختلف ادویہ کو ملا کر جس پھول کی خوشبو چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں۔اسی طرح اور بہت