Haqiqatul-Wahi (The Philosophy of Divine Revelation)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 656 of 1064

Haqiqatul-Wahi (The Philosophy of Divine Revelation) — Page 656

656 HAQIQATUL-WAHI-THE PHILOSOPHY OF DIVINE REVELATION of the Aryah faith have also declared that this is the time of the advent of Krishna¹ the Avatār and they are waiting for him to appear in this age. 1. ☆ شری نشکلنک بھگوان کا اوتار شری ہنومان جی کی جے) سنساری پرشوں کو وقت ہو کہ آج کل جیسے جیسے او پدرو ہمارے دیش میں ہو رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہی ہیں مثلاً استریوں کا بیوہ ہونا اور ساتھ ہی اُن بُری باتوں کا بھی ہونا جن کو بچہ بچہ جانتا ہے اور گھی اور غلہ وغیرہ کا اس قدر گراں ہونا اور علاوہ اس کے سینکڑوں قسم کی مصیبتیں ہمارے آریہ ورت پر آئی ہوئی ہیں کہ جن کا ذکر بیان سے باہر ہے یہ آپ لوگوں پر خوب روشن ہے کہ جو طاقت آپ کے پتا و دادا میں تھی وہ اب آپ میں کہاں۔ اور آپ میں جو حوصلہ طاقت و بدھی ہے وہ آپ کی اولاد میں ہے یا کچھ آئندہ ہو جانے کی امید ہے۔ بس اے سجنو! اگر آپ لوگوں کو اس مہاکشٹ سے چھٹنے کی خواہش ہے اور نراکار و ساکار کی ایکتا اور پر ماما میں پریم اور بھگتی بڑھانے کی خواہش ہے تو شری نشکلنک جی مہاراج کا ضرور شمرن و دھیان کیجئے۔ کیونکہ ایشور پرماتما ہمیشہ بھگتوں کے بس میں ہوتے ہیں۔ اُن کو اپنے بھگتوں کو سکھ دینے کی ہی اچھا یعنی خواہش رہتی ہے وہ ضرور پر گھٹ ہو کر حال میں ہی ان سب او پدروں اور ڈشٹوں کو ناش کریں گے۔ اگر کسی سجن کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ کا پر تھم چرن ہی ہے اور مہاراج جی کا جنم کلجگ کے انت میں لکھا ہے تو آپ غور کیجئے کہ اس سے زیادہ اور کیا کلجگ پر تیت ہو گا کہ استریاں اپنے پتیوں کو چھوڑ کر دوسروں پر نگاہ رکھیں۔ اور اولاد اپنے والدین کی وفاداری میں نہ رہیں۔ اور والدین اپنی اولاد کو اولاد کی طرح نہ سمجھیں۔ یہاں تک کہ آج کل سب ہی چیزیں اپنے اپنے دھرموں سے پھری ہوئی ہیں۔ اب کوئی صاحب یہ فرماویں کہ ابھی شاستر دوارا وقت نہیں ودت ہوتا ہے تو بھائی پیارے بھگتو ! نرسی جی کا بہات بھرنا بھی پہلے کسی شاستری جی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ شری کرشن چندر مہاراج ایسا بھات دیویں گے اور اسی طرح سینکڑوں بھگتوں کے کار کاج شدھ کر دیئے جیسا کہ پہلا و بھگت کے اُبھارنے کو کہیں ساعت اور تھی نہیں لکھی تھی جب نر سنگھ جی پر گھٹ ہو چکے اور دیت راج کو مار چکے تب ہی تو معلوم ہوا کہ نارائین جی نے اپنے بھگت کے اُبھارنے کے واسطے اُتار لیا ہے۔ اس سبب سے ان گلگی بھگوان مہاراج کا پر گھٹ ہونا۔ مانو سنسار کے سکھ کا مول ہو گا۔ جس طرح بھگوان سورج نارائن کا اودے ہونا سب دنیوی کاروبار و دیگر مخلوقات کے سکھ کا مول ہوتا ہے کیونکہ آنکھوں سے دکھلائی تب ہی دیتا ہے جبکہ اندھیرا دور ہوتا ہے۔ پیارے متر و سچی پرستی اور بھگتی بھگتی کا کا تجربہ ۔ चौ० अग जग में सब रहित विरागी प्रेम से प्रभु प्रघटैं जिमि आगी ایشور کے درشن ہی کرنے کا ہے جیسا کہ شری شوجی مہاراج نے کہا ہے اگ جگ میں سب رہت ورا گی۔ پریم سے پر بھو پر تھیں جمی آگی۔ اپنے شاستروں کے سچے تجربہ کو سچی پریت سے پرتیت کرو کہ کہاں پیدا ہوئے۔ ہے بدھی والو غور سے سوچو کہ دوس تہان جہان بھانو پر کاشوک سنبھل وہی ہے جہاں نشکلنک جی پر گھٹ ہوں۔ ہے سجنو! مہاتماؤ ! پنڈ تو! میرے اس تھوڑے لکھے کو بہت جانو کیونکہ عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اب ایشور مہاراج سے بھی پرارتھنا ہے کہ آپ جلدی پر گھٹ ہو کر اپنے بھگتوں کو بچاؤ اور اس مایا روپی جال سے نکالو۔ ورنہ سنسار سب کچھ گیا ہوا ہی ہے اگر میری اس میں کوئی غیر مناسب بات یا بھول ہو وے اپنا بچہ سمجھ کر معاف فرماویں۔ المشتہر بالمکندجی کونچہ پاتی رام دہلی