حقيقة الوحي — Page 373
۳۷۳ هذه صورة فقرة المباهلة التي كتبها بيده جراغ دين من جامون یہ مکتی ہے اسی مباہلہ کی عبارت کا جو چرا ندین وصورة توقيعه ۳۹ ساکن جنہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھی تھی اور الرعا یہ اسی کے دستخط ہیں جن کا عکس لیا گیا. دعامہ یہ وعمون آخر تکہ خیلی قلم سے لگہاں اگو یکہ قداری میری خدا ای میری خدا بین صدق دل سے گورسی دیتا ہوں کہ آسمان و زمین اور ما تصور نمی کا تو ہی اکیلا خالق اور مارت اور رازقی ہے اور آسمانا اور زمین و یا سوارتھا کا ہر ایک درد پر تیزابی حکم جاری اور سوا نیا ورہ نافذ ہے اور یہ تو تب کا ابتداء اور انتہا ظاہر اور باطن جانتا اور سب آواز سنتا اور انکی مقبوضہ حمتین برند کا اور آسمان و زینی کے در میان تیرے حکم بغیر ایک درد یہی ہی نہیں سکتا اور انبیا اولیا شاہ اور گیا مدار یک اور شیاطین بلکہ جمیله موجودات تیری می مخلوق ہے اور محتاج ہے جو تیری رحمتہ کے امیدورہ اور تیری حقیر سے لرزان میر ہین اور تو ہی اکیلا اس تمام ارضی اور سیادی ظاہری اور باطنی او مینی مخلوق کا اور جس کی خالق مالک اور معبود ہے اور تیری مواد آسمان اور زمین دھا سوائنہما کے درمیان عبادت اور لوکل یا محبت کے طابق اوری محمود نسبت اور جسقد معبود لوگوں نے شہر کی بری بین خوره وه احبار ی بت ہیں با روح یا فرشتے یا شیاطین یا آسمانی اور رو با زمینی مده سب باطل مین اور تیری مخلوق در حد باید بین ان میں سے ایک آبی پر سنقش اور تو کل اور محبت کے ادیق نہیں بلکہ آسمان اور زمین اور ماسوائما کے درمیان عملیت اور توکل اور