حقیقتِ نماز — Page 19
حقیقت نماز علی گڑھ کے ایک طالب علم نے اپنی حالت کا ذکر کیا کہ نماز میں سستی ہو جاتی ہے اور میرے ہم مجلسوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان کے اعتراض نے مجھے بہت کچھ متاثر کیا ہے اس لیے حضور کوئی علاج اس سستی کا بتائیں۔فرمایا : ”جب تک خوف الہی دل پر طاری نہ ہو گناہ دور ہو نہیں سکتا اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں تک موقعہ ملے ملاقات کرتے رہو۔ہم تو اپنی جماعت کو قبر کے سر پر رکھنا چاہتے ہیں کہ قبر ہر وقت مد نظر ہو لیکن جو اس وقت نہیں سمجھے گا وہ آخر خدا تعالیٰ کے قہری نشان سے سمجھے گا۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 396 مطبوعہ 2010ء) تزکیہ دل میں ہوتا ہے۔بغیر اس کے کچھ نہیں بنتا۔حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے گھر میں اس قدر التزام نماز کا ہے کہ جب پہلا بشیر پیدا ہوا تھا۔اس کی شکل مبارک سے بہت ملتی تھی۔وہ بیمار ہوا اور شدت سے اس کو بخار چڑھا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کی حالت نازک ہو گئی۔اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نماز پڑھ لوں۔ابھی نماز ہی پڑھتے تھے کہ بچہ فوت ہو گیا۔نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے۔میں نے کہا کہ اس کا تو انتقال ہو گیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ انہوں نے بڑی شرح صدر کے ساتھ کہا انَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (البقره ۱۵۷) اُسی وقت میرے دل میں ڈالا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہیں اٹھائے گا جب تک اس بچہ کا بدلہ نہ دے لے۔چنانچہ اس کے فوت ہونے کے قریباً چالیس دن بعد محمود پیدا ہوا۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بچے پیدا ہوئے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 393-392 مطبوعہ 2010ء) 19