حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 12 of 148

حقیقتِ نماز — Page 12

حقیقت نماز اسلامی تعلیمات اور اس کے اصول انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہیں۔جہاں اُن میں مخلوقِ خدا کے حقوق کے حوالے سے تفصیلی ہدایات پائی جاتی ہیں وہاں اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی مکمل راہنمائی موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق ان دونوں قسم کے حقوق کی ادائیگی کرنا ہی دراصل بندگی کہلاتا ہے اور یہی انسان کی پیدائش کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - (الذريات (۵۷) ترجمہ: اور میں نے جن وانس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔عبادت یہی ہے کہ اعلیٰ ہستی کے احکامات کے تابع رہا جائے اور اُس کی اطاعت کرتے ہوئے اُس سے تعلق میں سرگرمی دکھائی جائے اور اُس کی حمد وثنا کرتے ہوئے اُس کی مہر بانیوں اور احسانوں کو یاد کر کے اُس کا شکریہ بجالایا جائے۔انسان کا ہر نیک اور صالح عمل چاہے وہ حقوق العباد کے حوالے سے ہو یا حقوق اللہ سے تعلق رکھتا ہو ، عبادت کہلاتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے خالق و مالک کی ہدایات کے مطابق اور اُس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے کیا جائے۔مختصر یہ کہ اسلامی شریعت کے احکامات کی بنیاد حقوق اللہ اور حقوق العباد پر قائم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق خدا کے حقوق کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ ان کی کماحقہ ادائیگی پر انسانی معاشرتی زندگی کے امن کا دارومدار ہے۔دوسری طرف اس حقیقت کا بھی ہمیں ادراک ہونا چاہئے کہ وہ ہستی جس نے انسان کو پیدا کیا ، اُسے اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا اور کائنات کی ہر چیز کو اُس کیلئے مسخر کر دیا، اُس کے حقوق کی ادائیگی تو 12