حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 18 of 148

حقیقتِ نماز — Page 18

حقیقت نماز رہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر مجھے راضی کریں۔خدا تعالیٰ کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا۔یہ تو دین ہر گز نہیں۔یہ سیرت کفار ہے بلکہ جودم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں بے فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُ وَالِي وَلَا تَكْفُرُونِ ( سورة البقره ۱۵۳ ) یعنی اے میرے بندو! تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو اور میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے۔پس جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات صاف ہے۔یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں اور نہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 189-188 مطبوعہ 2010ء ) 18