حقیقتِ نماز — Page 11
پیش لفظ صداقت احمد مربی سلسله مبلغ انچارج جرمنی حقیقت نماز اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اُسے اعلیٰ درجے کی ظاہری اور باطنی صلاحیتیوں اور استعدادوں سے نوازا جنہیں صیقل کر کے ہر انسان اخلاقی اور روحانی طور پر ترقی کرسکتا ہے۔اس ترقی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضع کردہ قواعد وضوابط کی پابندی کی جائے اور یہ وہ چیز ہے جو انسان کو دیگر تمام جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔اسی لئے قرآنِ پاک میں انسان کی روحانی اور جسمانی پیدائش کے مراتب ستہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خالقیت کو بہترین قرار دیتے ہوئے فرمایا : فَتَبرَكَ اللهُ اَحسَنُ الْخَلِقِينَ (سورة المؤمنون ۵ ) ظاہر ہے کہ خالق ہی اپنی تخلیق کردہ چیز میں موجود طاقتوں اور استعدادوں سے نہ صرف واقف ہوتا ہے بلکہ وہی بہتر جانتا ہے کہ ان صلاحیتیوں میں نکھار پیدا کرنے اور اُن سے بہتر رنگ میں کام لینے کیلئے کن باتوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جو انسان کا خالق و مالک ہے انسان کی فطری صلاحتیوں کی تہذیب اور ترقی کیلئے اپنے نبیوں کی معرفت ایسے اصول اور ضوابط بتائے جن پر عمل پیرا ہو کر وہ جہاں ایک پُرامن اور پرسکون معاشرتی زندگی بسر کر سکتا ہے وہاں وہ روحانی ترقی کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی کا قرب بھی حاصل کر سکتا ہے۔ان اصولوں اور قواعد و ضوابط کو مذہبی اصطلاح میں شریعت کہتے ہیں۔11