حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 69 of 148

حقیقتِ نماز — Page 69

حقیقت نماز حسنات سے مراد نماز ہے۔مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکا رسمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا۔آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہود نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے که اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے۔مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور و بدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں۔اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں۔جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا بھی چھو جائے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے؛ حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں۔اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہیں مانگتے بلکہ نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں۔یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں جو اُن لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی۔اسی لئے ان کی ترقیات جلدی ہوئیں لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ان کے نیچے 69