حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 58 of 148

حقیقتِ نماز — Page 58

حقیقت نماز آجکل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔جس نماز میں تضرع نہیں، خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں، خدا تعالیٰ سے رقت کے ساتھ دعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے۔۔۔دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دوں گا۔جب کبھی کسی امر کے واسطے دعا کی ضرورت ہوتی تو رسول اللہ صلی کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے اور نماز کے اندر دعا کرتے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه 45-44 مطبوعہ 2010ء) نماز کے اندر اپنی زبان میں دعا مانگنی چاہئے کیونکہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے وہ اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا چاہئے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہئے اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہیئے اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تا کہ حضورِ دل پیدا ہو جاوے۔کیونکہ جس نماز میں حضورِ دل نہیں وہ نماز نہیں۔آجکل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھونگے دار پڑھ لیتے ہیں۔جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتے ہیں جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے۔پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دعا کی جاوے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دعائیں مانگنی چاہئیں۔58