حقیقتِ نماز — Page 42
حقیقت نماز اور اُدھر زبان سے حمد و ثناء بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔جوشخص مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے۔اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ بچے طور پر الحمدللہ اسی وقت کہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور پھر سمجھا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا، تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّي العَظِیم کہتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اُس کے حضور جھکتے ہیں۔عظمت کا تقاضا ہے کہ اُس کیلئے رکوع کرے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔یہ اُس قول کے ساتھ حال دکھایا۔پھر تیسرا قول ہے سُبْحَانَ رَبِّي الأعلى - أعلى افعك تفضیل ہے۔یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔اس لئے اُس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرنا ہے۔اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کر لی۔اِس قال کے تین حال جسمانی ہیں۔ایک تصویر اس کے آگے پیش کی گئی ہر ایک قسم کا قیام بھی کیا گیا ہے۔زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اُس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔42