حقیقتِ نماز — Page 41
حقیقت نماز اسی طرح يُقِيمُونَ الصَّلوةَ میں لوازم الصلوۃ معراج ہے۔اور یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔مکاشفات اور رویاء صالحہ آتے ہیں۔لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ تنبثل تام ہو کر خدا میں جاملتا ہے۔صلی جلنے کو کہتے ہیں۔جیسے کباب بھونا جاتا ہے۔اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل پریاں نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا۔اور اصل تو یہ ہے کہ نمازی اپنے بچے معنوں میں اسی وقت ہوتی ہے۔نماز میں شرط ہے کہ وہ جمیع شرائط ادا ہو۔جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلواۃ میں میل نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اُس کا منشاء یہ ہے۔ایسا ہی صلوۃ میں منشائے الہی کی تصویر ہے۔نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضاء وجوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے۔جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید وسیع کرتا ہے، اس کا نام قیام رکھا گیا ہے۔اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد وثناء کے مناسب حال قیام ہی ہے۔بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔تو ادھر ظاہری طور پر قیام رکھا گیا ہے 41