حقیقتِ نماز — Page 25
حقیقت نماز گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے۔اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو غنِی عَنِ الْعَالَمِینَ ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اُس کی ہلاکت کے در پے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی بلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 403-402 مطبوعہ 2010ء) عربی سے ترجمہ : ناقل) واضح ہو کہ اُس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے وہ در حقیقت چند امور پر مشتمل ہے ) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اُس کی بلند و بالا شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اُس کی مہر بانیاں اور قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد و ثنا کرنا، اس کی ذات سے محبت رکھتے ہوئے اور اُس کی خوبیوں ، جمال اور نور کا تصور کرتے ہوئے اُسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اُس کی جنت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں سے پاک کرنا۔اور سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ انسان التزام کے ساتھ پانچوں نمازیں اُن کے اول وقت پر ادا کرنے اور فرض اور سنتوں کی ادائیگی پر مداومت رکھتا ہو اور حضور قلب ، ذوق ، شوق اور عبادت کی برکات کے حصول میں پوری طرح کوشاں رہے کیونکہ نماز ایک ایسی سواری 25