حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 24 of 148

حقیقتِ نماز — Page 24

حقیقت نماز ناداری کا ان کو فکر لگا رہتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا خزانہ ہر وقت بھرا بھرایا ہے۔جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو صرف یقین کی حاجت ہوتی ہے۔اسے اس امر پر یقین ہو کہ میں ایک سمیع، علیم اور خبیر اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں اگر اسے مہر آجاوے تو ابھی دے ا دیوے۔بڑی تضرع سے دعا کرے۔ناامید اور بدظن ہر گز نہ ہووے اور اگر اسی طرح کرے تو (اس راحت کو ) جلدی دیکھ لے گا۔اور خدا تعالیٰ کے اور اور فضل بھی شامل حال ہوں گے اور خود خدا بھی ملے گا۔تو یہ طریق ہے جس پر کار بند ہونا چاہیے۔مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لا پروا ہے۔ایک بیٹا اگر باپ کی پروا نہ کرے اور ناخلف ہو تو باپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تو خدا کو کیوں ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 682-681 مطبوعہ 2010ء) پھر ان سب باتوں کے بعد فرمایا - وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ (المؤمنون (۱۰) یعنی ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے۔جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات ۵۷) غرض یا درکھنا چاہئے کہ نماز ہی وہ شئے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بلائیں دُور ہوتی ہیں۔مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہ احدیت پر 24