حقیقتِ نماز — Page 16
حقیقت نماز نے اُن کو یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 614 مطبوعہ 2010ء) ”نماز خدا کا حق ہے اُسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ بر تو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 592-591 مطبوعہ 2010ء) ملے۔فرمایا: ایک شخص نے عرض کی کہ میرے لیے دعا کریں کہ نماز کی تو فیق اور استقامت ”حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے۔اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا ہے۔اِس طرف سے فرق آیا تو معا اُس طرف سے بھی فرق آجاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 236-235 مطبوعہ 2010ء) نماز میں پکے رہو۔جو مسلمان ہو کر نماز نہیں ادا کرتا ہے وہ بے ایمان ہے۔اگر وہ نماز ادا نہیں کرتا تو بتلاؤ ایک ہندو میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ زمینداروں کا دستور ہے کہ ذرا ذرا سے عذر پر نماز چھوڑ دیتے ہیں۔کپڑے کا بہانہ کرتے ہیں۔( حاشیہ میں درج ہے : اس جگہ البدر میں جو لفظ ہے وہ ٹھیک پڑھا نہیں جاتا۔احکم میں یہ فقرہ واضح ہے جو یہ ہے۔کپڑوں کے میلا ہونے کا عذر کر دیتے ہیں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس اور کپڑے نہ ہوں تو اسی میں نماز پڑھ لے اور جب دوسرا کپڑا مل جاوے تو اس کو بدل دے۔اسی طرح اگر غسل کرنے کی ضرورت ہو اور بیمار ہو تو تیم کر لے۔خدا نے ہر ایک قسم کی آسانی کر دی ہے تا کہ قیامت میں کسی کو عذر نہ ہو۔16