حقیقتِ نماز — Page 120
حقیقت نماز سے اوّل معرفت ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے آتی ہے اور کچھ اس کی طینت سے آتی ہے۔جو محمود فطرت والے مناسب حال اس کے فضل کے ہوتے ہیں اور اس کے اہل ہوتے ہیں انہیں پر فضل بھی کرتا ہے۔ہاں یہ بھی لازم ہے کہ جیسے دنیا کی راہ میں کوشش کرتا ہے ویسے ہی خدا کی راہ میں بھی کرے پنجابی میں ایک مثل ہے ”جو منگے سو مرر ہے مرے سو منگن جا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 630 مطبوعہ 2010ء) عرب صاحب نے عرض کیا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر دل نہیں ہوتا۔فرمایا : "جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نمازی نماز میں رہو گے۔دیکھو یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنی سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خواہ نخواہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے۔اسی طرح پر جب انسان اللہ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کے حسن و احسان کو پسند کرتا ہے تو دل بے اختیار ہو کر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے۔اس زندگی کا مزہ اسی دن آسکتا ہے جبکہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے تمام لذت اور ذوق دعا ہی میں محسوس ہو۔یاد رکھو کوئی آدمی کسی موت وحیات کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو۔جولوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا کبھی مرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے نامراد جاتے ہیں۔وہاں ان کے لئے خزانہ نہیں ہے جس سے وہ لذت اور خوشی حاصل کر سکیں۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 614 مطبوعہ 2010ء) 120