حقیقتِ نماز — Page 114
حقیقت نماز نہیں آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے۔اخلاق کو درست کرتی ہے۔دنیا کو درست کرتی ہے۔نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذات جسمانی کے لئے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جو اسے ملتا ہے۔قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ مخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کور بوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے۔اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر اُن کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے۔ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کر کے دعا کرنی چاہیے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو۔جو تعلق عبودیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی۔جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیالیکن جسے دو چار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمی ( بنی اسرائیل ۷۳ ) آئندہ کے سب وعدے اسی سے وابستہ ہیں۔ان باتوں کو فرض جان کر ہم نے بتلا دیا ہے۔“ ملفوظات جلد سوم صفحہ 592-591 مطبوعہ 2010ء) اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرور اُسے حاصل نہیں ہو سکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور 114