حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 113 of 148

حقیقتِ نماز — Page 113

حقیقت نماز گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے۔اگر طبیعت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لیے بھی دعا ہی کرنی چاہیے کہ الہی تو ہی اُسے دُور کر اور لذت اور نور نازل فرما۔جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوح" کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے روزہ بھی مشروط ہے۔زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں۔سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کا ہے۔اس لیے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔اگر بھوک یا پیاس لگی ہو تو ایک لقمہ یا ایک گھونٹ سیری نہیں بخش سکتا۔پوری خوراک ہوگی تو تسکین ہو گی۔اسی طرح ناکارہ تقویٰ ہر گز کام نہ آوے گا۔خدا تعالیٰ انہیں سے محبت کرتا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔آج تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ( آل عمران ۹۳ ) کے یہ معنے ہیں کہ سب سے عزیز شئے جان ہے اگر موقعہ ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دیدی جاوے۔نماز میں اپنے اوپر جو موت اختیار کرتا ہے وہ بھی بڑ کو پہنچتا ہے۔“ 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 627 مطبوعہ 2010ء) نما ز خدا کا حق ہے اُسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔نماز ہر گز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے۔جو اُسے منحوس کہتے ہیں اُن کے اندر خود زہر ہے۔جیسے بیمار کو شرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی اُن کو نماز کا مزا 113