حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 112 of 148

حقیقتِ نماز — Page 112

حقیقت نماز رہنا۔بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔یہ ہے تو سب کچھ ہے۔والسلام “ (ملفوظات جلد پنجم صفحه 432 مطبوعہ 2010ء) پاک تبدیلی اور حقیقی نیکی کے حصول کا ذریعہ اس میں شک نہیں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہر ایک کو نہیں مل سکتے نماز بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالی نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں نرا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں۔اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کلمہ پڑھوائے۔جب تک نماز اور کلمہ پڑھنے میں آسمانی چشمہ سے گھونٹ نہ ملے تو کیا فائدہ؟ وہ نما ز جس میں حلاوت اور ذوق ہو اور خالق سے سچا تعلق قائم ہو کر پوری نیازمندی اور خشوع کا نمونہ ہو اس کے ساتھ ہی ایک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے جس کو پڑھنے والا فوراً محسوس کر لیتا ہے کہ اب وہ وہ نہیں رہا جو چند سال پہلے تھا۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 597 مطبوعہ 2010ء) بات یہ ہے کہ جسے خدا تعالیٰ بھیجتا ہے اس کے اندر ایک تر باقی مادہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔پس جو شخص محبت اور اطاعت میں اُس کے ساتھ ترقی کرتا ہے تو اُس کے تریاقی مادہ کی وجہ سے اُس کے گناہ کی زہر دُور ہوتی ہے اور فیض کے ترشحات اُس پر گرنے لگتے ہیں۔اُس کی نماز معمولی نماز نہیں ہوتی۔یادرکھو کہ اگر موجودہ ٹکروں والی نماز ہزار برس بھی پڑھی جاوے تو ہر گز فائدہ نہ ہوگا۔نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے۔نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح 112