حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 111 of 148

حقیقتِ نماز — Page 111

حقیقت نماز صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مقابلہ میں بنا دی ہوئی ہے۔مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ان وظائف اور اور اد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اوراد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سُنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کوسنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔اس سے تمہیں اطمنیانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نما ز یاد الہی کا ذریعہ ہے۔اس لیے فرمایا ہے آرقیم الصّلوةَ لید گرمی (طه (۱۵) ‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 310 تا 311 مطبوعہ 2010ء) معراج کے مراتب تک پہنچنے کا ذریعہ یاد رکھو ہمارا طریق بعینہ وہی ہے جو آنحضرت علی اور صحابہ کرام کا تھا۔آجکل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔یہ چلے اور در دوظائف جو انہوں نے رائج کرلئے ہیں ہمیں ناپسند ہیں۔اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اُس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے 111