حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 110 of 148

حقیقتِ نماز — Page 110

حقیقت نماز نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے۔التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اُس کی غرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے۔خدا کے آگے سربسجود رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے۔پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بحر حقیقی نماز کے ممکن ہے؟ ہر گز نہیں۔اطمینانِ قلب کا ذریعہ سوال : بہترین وظیفہ کیا ہے؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 190-189 مطبوعہ 2010ء) جواب : ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درودشریف۔تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر قسم کے غم وہم ڈور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اسی لیے فرمایا ہے الا بذکرِ اللهِ تَطْمَئِنَّ الْقُلُوبُ اطمينان وسكينتِ قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت 110