حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 68 of 148

حقیقتِ نماز — Page 68

حقیقت نماز نمازوں کے لیے ویل آیا ہے۔دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جوہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لیے اسے پھینک دینا چاہیے۔ہر گز نہیں۔اول اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوں کو بھی سنبھالے۔اس لیے نماز کوسنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔سائل : الحمد شریف میشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں۔ان کو تو دعا مانگنی چاہیے۔حضرت اقدس : ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو۔سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھیں، نماز با برکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔اس لیے ہر شخص کو جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔اس لیے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں۔اور ہم بھی کر لیتے ہیں اگر چہ ہمیں تو عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔اس لیے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ ربّ العزۃ میں عرض کرنا چاہیے۔میں نے بار ہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کر وجس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔باقی نوافل اور سنن کو جیسا چاہو طول دو۔اور چاہیے کہ اس میں گریہ و بکا ہو، تاکہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شے ہے کہ سیات کو دور کر دیتی ہے۔جیسے فرمایازان الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود ۱۱۵) نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔68