حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 48 of 148

حقیقتِ نماز — Page 48

حقیقت نماز جاتی ہے اور اس کو نماز کے کھڑے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اس لئے کہ وہ نماز اُس کی کھڑی ہی ہوتی ہے اور ہر وقت کھڑی ہی رہتی ہے۔اس میں ایک طبعی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ اُس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی کا رنگ رکھتی ہے۔اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔جس طرح پر حیوانات اور دوسرے انسان اپنے ماکولات اور مشروبات اور دوسری شہوات میں لذت اٹھاتے ہیں اُس سے بہت بڑھ چڑھ کر وہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے۔اس لئے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔نما ز ساری ترقیوں کی جڑ اور زمینہ ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راست باز، ابدال، قطب گذرے ہیں۔اُنہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کئے؟ اسی نماز کے ذریعہ سے۔خود آنحضرت صل العلم فرماتے ہیں قُرةُ عَيْني في الصلوۃ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت ملال کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 605-604 مطبوعہ 2010ء) 48