حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 43 of 148

حقیقتِ نماز — Page 43

حقیقت نماز تیسری چیز اور ہے۔وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے، نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے۔اس کی عکو شان کو ملاحظہ میں لا کر اُس کے ساتھ ہی دیکھے کہ رُوح بھی الوہیت کے آستانہ پر گری ہوئی ہے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہو لے، اُس وقت تک مطمن نہ ہو۔کیونکہ يُقِيمُونَ الصلوة کے معنی یہی ہیں۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جائے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا ر ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ر ہے۔آخر وہ حالت پیدا 66 ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔یہ تقوی عملی کا ایک جزو ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 289-287 مطبوعہ 2010ء) اسی طرح انسانی سعی اور کوشش نماز کے ادا کرنے میں اِس سے زیادہ کیا کرسکتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے پاک اور صاف ہو کر اور نفی خطرات کر کے نماز ادا کریں اور کوشش کریں کہ نماز ایک گری ہوئی حالت میں نہ رہے اور اس کے جس قدر ارکان حمد وثنا 43