حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 17 of 148

حقیقتِ نماز — Page 17

حقیقت نماز اب ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ شطرنج گنجفہ وغیرہ بیہودہ باتوں میں وقت گزارتے ہیں۔ان کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ ہم ایک گھنٹہ نماز میں گزار دیں گے تو کیا حرج ہوگا؟ سچے آدمی کو خدا مصیبت سے بچاتا ہے۔اگر پتھر بھی برسیں تو بھی اُسے ضرور بچاوے گا۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو سچے اور جھوٹے میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ لیکن یاد رکھو کہ صرف ٹکریں مارنے سے خدا راضی نہیں ہوتا۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 138 مطبوعہ 2010ء) ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے؟ فرمایا : نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت لیم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز ونیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا، یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا ، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے۔اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا 17