حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 69 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 69

۶۹ کیا تھا اور اُسے دیکھ کر سجدہ کیا۔مگر بعض نے شک کیا۔“ (متی باب ۲۸ آیت ۱۶، ۱۷) حضرت مسیح نے اپنی شہرت کو دیکھتے ہوئے اپنے شاگردوں کو گلیل کے ایک پہاڑ پر جمع کیا تا کہ وہاں اُن سے علیحدگی میں ملاقات کی جائے اور شاگردوں نے مسیح کو وہاں پا کر سجدہ کیا اس حالت میں کیا ہوا؟ لکھا ہے کہ :- وو ” جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ اُن سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا اور وہ اُس کو سجدہ کر کے بڑی خوشی سے یروشلم کو لوٹ گئے۔" اسی طرح لکھا ہے کہ :- (لوقا باب ۲۴ آیت ۵۲،۵۱) ' یہ کہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے او پر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا اور اُس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دومردسفید پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے کمیلی مرد و تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اسی طرح پھر آجائے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔تب وہ اس پہاڑ سے جو زیتون کا کہلاتا ہے اور یروشلم کے نزدیک سبت کی منزل کے فاصلے پر ہے یروشلم کو پھرے۔“ (اعمال بابا آیت ۹ تا ۱۲ ) ان حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو ایک پہاڑ کے پاس بلایا تھا اور ان ہی حوالوں میں ایک عقدہ ہے اگر وہ کھل جائے تو پھر مسیح کے آسمان پر جانے کی بات بھی کھل جاتی ہے کہ آیا آپ آسمان پر گئے یا پھر کہیں اور ؟ جہاں تک کسی کے آسمان پر جانے کی بات ہے تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی انسان آسمان پر چلا جائے اور ہم گزشتہ حوالوں سے یہ ثابت کر آئے ہیں کہ آپ انسان تھے نہ خدا تھے نہ خدا