حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 61 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 61

بہاؤ کو روک نہ دیا۔کثرت سے خون کا بہہ جانا آپ کے زندہ ہونے اور پھر اُن نشانوں کو دیکھ کر جو اس کفن پر لگے خاص طور پر پسلی کی جگہ سے نکلے خون کے نشان کو دیکھ کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کفن مسیح کا ہی تھا جو کہ آج تک مقدس کفن کے طور پر پوپ پال کے پاس اٹلی کے ٹورین شہر میں موجود ہے۔مصوروں اور سائنسدانوں کی ان شہادتوں کے بعد کہ یہ کفن مسیح ہی کا ہے اور اس میں سے مثبت تصویر ابھری ہے اور خون کے بہنے والے نشان اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مسیح کو جب اس کفن میں لپیٹا گیا تھا وہ زندہ تھے تو مسیحی دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا کیونکہ مسیح کا صلیب سے زندہ بچ کر اتر نا اُن کے عقیدہ کفارہ کے بالکل خلاف تھا۔اس لئے چر چوں نے اس کفن کے بارے میں شک کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ یہ اصلی کفن نہیں ہے لیکن حیرت ہے کہ تقریبا دو ہزار سال سے مقدس کہلائے جانے والے کفن کو آج اپنے غلط عقیدہ کو درست بنائے رکھنے کی غرض سے جھٹلایا جارہا ہے۔آج بھی سائنس دان اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اس کفن کے ٹیسٹ کئے جائیں لیکن دوسری طرف چرچ اس کام کے لئے بھی تیار نہیں بلکہ ایک نے لکھا ہے کہ :- ” اب ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ اس تجزیے کی خاطر مسیحیوں کی اس متبرک ترین یادگار کو تباہ کر دیا جائے۔اور اگر اس سائنسی تجزیے نے ثابت کر دیا کہ یہ چادر اصلی ہے جس میں واقعی حضرت مسیح کو لپیٹا گیا تھا تو اس کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر ضائع کرنا اس مقدس یاد گار کی بے ادبی کرنے کے مترادف ہوگا۔“ (SAGA OF THE SHROUD ENDED BY EARNE SA HAUSER, PUBLISHED IN READERS DIGEST, NOV۔1989 AD۔AND JESUS LIVED IN INDIA BY HOLGER KERSTEN, P۔133) پس اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ مسیح علیہ السلام نے یونس نبی کا