حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 81 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 81

ΔΙ ثبوت ملتا ہے اس بات میں تو کوئی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مسیح کشمیر میں آئے اور یہاں ہی وفات پائی اور اپنی کھوئی ہوئی بھیٹروں کی اصلاح کا کام کیا۔بائیبل میں ایسی ہی دُور دراز کی بھیڑوں کو تلاش کر کے اُن میں تبلیغ کا کام کرنے کا حوالہ دکھائی دیتا ہے لکھا ہے کہ :- وو ” اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانے کی نہیں مجھے اُن کا بھی لانا ضروری ہے اور وہ میری آواز سنیں گی پھر ایک ہی گلہ ہوگا اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔“ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶) پس یہ کشمیر کے بنی اسرائیل تھے جو کہ وہ بھیڑیں تھیں جو فلسطین کے بھیڑ خانہ کی نہ تھیں۔آپ نے اُن کو تلاش کیا اور انہوں نے آپ کی آواز کوٹنا اور آپ اُن کے چرواہے ٹھہرے۔حضرت مسیح علیہ السلام جس قدر سفر کرتے پیدل ہی کیا کرتے تھے اسی مناسبت سے آپ کا نام مسیح رکھا گیا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام ایک جگہ لکھتے ہیں کہ :- " حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح اس واسطے رکھا گیا کہ وہ سیاحت بہت کرتے تھے۔ایک پشمی طاقیہ ان کے سر پر ہوتا تھا اور ایک پشمی گرتہ پہنے رہتے تھے۔اور ایک عصا ہاتھ میں ہوتا تھا۔اور ہمیشہ ملک بہ ملک اور شہر بہ شہر پھرتے تھے۔اور جہاں رات پڑ جاتی وہیں رہ جاتے تھے۔جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے۔ایک دفعہ سیاحت کے زمانہ میں اُن کے رفیقوں نے اُن کے لئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بندوبست نہ ہو سکا اس لئے اُس کو واپس کر دیا۔وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین میں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سوکوس کے فاصلہ پر تھا۔اور آپ