حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 80 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 80

محلہ انز مرہ (سرینگر ) میں دفن ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرت کے روضہ سے انوار نبوت جلوہ گر ہوتے ہیں راجہ گو پادت نے ساٹھ سال دو ماہ حکومت کرنے کے بعد انتقال کیا۔تاریخ کشمیر قلمی صفحہ ۱۶۹ حوالہ حضرت مسیح مشرق میں صفحہ ۲۹-۳۰ مطبوعہ نظارت دعوت وتبلیغ قادیان جنوری ۱۹۷۷ء) اسی طرح ہندوؤں کی مذہبی کتاب بھوشیہ مہا پر ان ہے اس کی کئی جلدیں ہیں اس میں بھی مسیح کا تذکرہ موجود ہے لکھا ہے کہ :- ایک دن راجہ شالباہن ہمالیہ پہاڑ کے ایک ملک میں گیا وہاں اُس نے سا کا قوم کے ایک راجہ کو دین مقام پر دیکھا وہ خوبصورت رنگ کا تھا۔سفید کپڑے پہنے تھے۔شالباہن نے اس سے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میں یوسا شافت (یوز آسف) ہوں ایک کنواری کے بطن سے میری پیدائش ہوئی (راجہ شالباہن کے حیران ہونے پر ) اس نے کہا میں نے جو کہا ہے سچ کہا ہے اور میں مذہب کو پاک وصاف کرنے کے لئے آیا ہوں۔راجہ نے اُس سے پوچھا۔آپ کون سا مذ ہب رکھتے ہیں۔؟ اس نے جواب دیا : کے راجہ ! جب صداقت معدوم ہوگئی اور ملیچھیوں کے ملک میں حدود شریعت قائم نہ رہے تو میں وہاں مبعوث ہوا۔میرے کام کے ذریعہ جب گنہگاروں اور ظالموں کو تکلیف پہنچی تو ان کے ہاتھوں سے میں نے بھی تکلیفیں اُٹھا ئیں راجہ نے اس سے پھر پوچھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ اسنے جواب دیا۔میرا مذہب محبت ، صداقت اور تزکیہ قلوب پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرا نام عیسی مسیح رکھا گیا۔اس کے بعد راجہ آداب و تسلیمات بجالایا اور واپس ہوا۔“ بھوشیہ مہا پر ان صفحه ۲۸۰ پرت ۳، ادھیائے ۲ شلوک ۲۱ تا ۳۱) ان دونوں قدیم حوالوں سے مسیح کے کشمیر میں آنے اور یہیں پر اپنی زندگی گزارنے کا