حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 4 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 4

یہودیت کی بنیادی مذہبی کتاب تو رات ہے جس میں بہت سے انبیاء کی تعلیم موجود ہے اس لحاظ سے یہ اہل کتاب بھی کہلاتے ہیں۔کیونکہ اپنی مذہبی کتاب کو یہودی الہی نوشتہ تسلیم کرتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک کے انبیاء کو ماننا ان کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کو یہودی قبول نہیں کرتے۔یہود کا کہنا ہے کہ ہماری کتاب میں یہ لکھا موجود ہے کہ ایلیا آسمان پر چلا گیا ہے اور سچے مسیح سے قبل ایلیا آسمان سے اترے گا۔: جیسا کہ لکھا ہے " اور ایسا ہوا کہ جونہی وہ دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھا کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آکے اُن دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاء بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔“ (۲- سلاطین باب ۲ - آیت ۱۱) ان کے عقیدہ کے مطابق چونکہ ایلیا ظاہری طور پر آسمان سے نہیں اُتر ا اس لئے اُنہوں نے مسیح ناصری کو قبول نہیں کیا۔چنانچہ آج بھی یہود اسی انتظار میں ہیں کہ ایلیا آسمان سے اُترے اور اُن کی بادشاہت قائم کرے عیسائیت حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو قبول کرنے والے عیسائی کہلاتے ہیں اور جس مذہب پر اپنے آپ کو گامزن قرار دیتے ہیں وہ عیسائیت ہے۔عیسائی توریت پر بھی ایمان رکھتے ہیں جس کو عہد نامہ قدیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور عہد نامہ جدید پر بھی ایمان لاتے ہیں جس کو مسیح کی انجیل کہا جاتا ہے۔ان دونوں کے مجموعہ کا نام بائیل رکھا گیا ہے۔