حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 89 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 89

ہیں میں ان حوالوں کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرونگا کہ حقیقت میں اُن پیشگوئیوں کا مصداق کون ہے۔نبوت کا ایک سلسلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں جاری ہوا کیونکہ بائیبل میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے لئے دُعا کی تھی کہ نبوت کی نعمت کو میری نسل میں جاری کرنا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل دو ناموں سے جاری ہوئی ایک حضرت اسحاق " کی نسل جو بنی اسرائیل کہلائی اور دوسری حضرت اسماعیل کی نسل جو بنی اسماعیل کہلائی۔خدا تعالیٰ نے دونوں نسلوں کو بہت بڑھایا اور برکت دی۔اور دونوں میں نبوت جاری کرنے کا وعدہ کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے صاحب شریعت نبی تھے آپ کی کتاب میں لکھا ہے کہ :- " اُس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے دہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی (استثناء باب ۳۳ آیت ۲) یہ ایک پیشگوئی آنے والے کے متعلق بائیمیل میں موجود ہے اس میں تین باتیں بڑی اہم ہیں۔(۱) فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔(۲) دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔(۳) اس کے دائیں ہاتھ میں آتشی شریعت تھی۔بہت سے مسیحی اس پیشگوئی کا مصداق حضرت مسیح علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دس ہزار شاگرد کبھی بھی نہ ہوئے بلکہ بائیل کی شہادت ہے کہ صرف بارہ حواری تھے وہ بھی مصیبت کے وقت آپ کو چھوڑ گئے۔پھر بائیبل میں کوئی ایسی شہادت نہیں کہ آپ فاران سے جلوہ گر ہوئے تھے۔پھر آپ کی شریعت بھی ہمیں دکھائی نہیں دیتی بلکہ جو بھی نئے عہد نامہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود