حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 82 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 82

۸۲ کے ساتھ چند حواری بھی تھے۔آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا مگر اس شہر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اس لئے اس شہر کے حاکم نے حواریوں کو گرفتار کر لیا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو بلایا۔آپ نے اعجازی برکت سے بعض بیماروں کو اچھا کیا اور بھی کئی معجزات دکھلائے اس لئے نصیبین کے ملک کا بادشاہ مع تمام لشکر اور باشندوں کے آپ پر ایمان لے آیا۔اور نزول مائدہ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے وہ واقعہ بھی ایام سیاحت کا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۶) تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ بہت سے واقعات حضرت مسیح اور حضرت بدھ کے آپس میں ملتے جلتے ہیں حالانکہ بدھ کا زمانہ حضرت مسیح کے زمانہ سے پہلے کا ہے۔لیکن بدھ کی جو بھی تاریخ جمع کی گئی ہے وہ مسیح کی آمد کے بعد ہی ہوئی ہے پھر مسیح چونکہ ہندوستان میں آگئے تھے اور خاص اُس علاقہ میں آپ نے رہائش رکھی جو کہ حضرت بدھ کے ماننے والوں کے قریب تر کا علاقہ تھا۔اس طرح جس زمانہ میں حضرت مسیح کی تاریخ لکھی گئی اُسی دوران حضرت بدھ کی تاریخ بھی جمع کی گئی اس لئے ہر دو کی تاریخوں میں بہت سے واقعات مشترک ہیں۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح نے جو بھی پایا وہ حضرت بدھ کی تعلیمات سے حاصل کیا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے ان کی تعلیمات میں یکسانیت کی وجہ ہی صرف یہ بنی ہے کہ ہر دو بزرگوں کی تاریخ مرتب کئے جانے کا زمانہ ایک ہے اور پھر رہائشی علاقہ کے قریب ہونے کی بنا پر ان کے واقعات ایک دوسرے سے جکڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس کے متعلق بھی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ :-