حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 79 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 79

میں پڑھ آئے ہیں کہ ہم نے مسیح ابن مریم اور اُن کی والدہ کو ایک اونچی اور چشموں والی اور ٹھہر نے کے قابل جگہ پر پناہ دی ہے۔اور کشمیر وہ علاقہ ہے جوسب سے اُونچا ہونے کے ساتھ ساتھ چشموں والا اور ٹھہرنے کے قابل بھی ہے اور یہی وہ آیت ہے جس نے مسیح کے کشمیر میں آنے کے راز کوکھولا ہے۔کشمیر کی سب سے پہلی تاریخ فارسی زبان میں جناب مولا ندری نے لکھی تھی یہ تاریخ ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے یعنی تاریخ کا قلمی نسخہ ہے۔اس میں مسیح کا ذکر اس طرح درج ہے کہ :- ترجمہ " راجہ اکھ کے معزول ہونے کے بعد اُس کا بیٹا راجہ گو پانند گوپادت) حکمران ہوا۔اس کے عہد حکومت میں بہت سے مندر تعمیر ہوئے کوہِ سلیمان کی چوٹی پر ایک شکستہ گنبد تھا۔راجہ نے اس کی تعمیر کیلئے اپنے وزیروں میں سے ایک شخص سلیمان نامی کو جو فارس سے آیا تھا مقر ر کیا۔ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ یہ میچھ ہے۔اس وقت حضرت یوز آسف بیت المقدس سے وادی اقدس (کشمیر) کی جانب مرفوع ہوئے اور آپ نے پیغمبری کا دعوی کیا۔شب و روز عبادت الہی میں مشغول تھے۔اور تقویٰ و پارسائی کے اعلی درجہ کو پہنچ کر خود کو اہل کشمیر کی رسالت کے لئے مبعوث قرار دیا۔اور دعوت خلائق میں مشغول تھے۔چونکہ خطہ کشمیر کے اکثر لوگ آنحضرت (یوز آسف) کے عقیدت مند تھے راجہ گو یادت نے ہندوؤں کا اعتراض اُن کے سامنے پیش کیا اور آنحضرت کے حکم سے سلیمان نے جسے ہندوؤں نے سندیمان کا دیا ہے گنبد مذکور کی تکمیل کی۔۵۴؛ تھا۔اس نے گنبد کی سیڑھی پر لکھا کہ اس وقت یوز آسف نے دعوی پیغمبری کیا ہے۔اور دوسری سیڑھی کے پتھر پر لکھا کہ آپ بنی اسرائیل کے پیغمبر یسوع ہیں۔(مصنف کہتا ہے ) کہ میں نے ہندوؤں کی کتاب میں دیکھا ہے کہ آنحضرت (یوز آسف) بعینہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ تھے۔اور آپ نے یوز آسف کا نام بھی اختیار کیا ہوا تھا۔والعلم عند اللہ۔آپ نے اپنی عمر اسی جگہ بسر کی اور وفات کے بعد