حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 78
سے نجات کو بیان کیا گیا ہے اور مسیحی دُنیا کے عقیدہ کو باطل قرار دیا ہے اسی طرح ہی مسلمانوں کا عقیدہ بھی قرآن کریم ، احادیث و تاریخ کے لحاظ سے باطل ٹھہرتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام واقعہ صلیب سے بچ جانے کے بعد ہندوستان کی طرف تشریف لائے تھے اس خیال کو اس زمانہ میں سب سے پہلے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے پیش فرمایا تھا اور اس سلسلہ میں آپ نے مسیح ہندوستان میں نامی ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں وہ تمام تر شہادتیں پیش کی گئیں جو کہ مسیح کے صلیب سے زندہ اُترنے اور پھر ہجرت کر کے ہندوستان کی طرف آنے اور کشمیر میں وفات پانے کے سلسلہ میں ہیں۔آپ فرماتے ہیں :- سو میں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہئے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے۔بلکہ وہ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سری نگر محلہ خانیار میں اُن کی قبر ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تصنیف کے بعد بہت سے محققین نے اس عنوان پر قلم اُٹھایا۔حضرت مسیح کے سفر کشمیر اور قبرمسیح پر جس قدر بھی کتب لکھی گئیں اُن سب کی بنیاد یہی کتاب مسیح ہندوستان میں بنی۔بائبل مسیح کی صلیبی زندگی کے بعد کے واقعات کے بارے میں خاموش ہے اس لئے بائبل سے ہٹ کر تاریخ اور دیگر مذاہب کی کتب سے چند شہادتیں پیش کرتا ہوں جو کہ مسیح کے کشمیر میں آنے اور پھر کشمیر ہی میں وفات پا کر دفن ہونے کے تعلق سے ملتی ہیں۔سب سے پہلی شہادت تو وہ ہے جو آپ قرآن کریم کے حوالے سے گزشتہ صفحات